گجرات(ایگزو نیوز ڈیسک)گجرات کے ایک نجی ڈاکٹر ہسپتال میں مبینہ طبی غفلت کے نتیجے میں 50 سالہ خاتون رفعت سلطانہ کے جاں بحق ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے،جس پر لواحقین نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب حکومت سے واقعے کی مکمل،شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے۔لواحقین کا موقف ہے کہ مریضہ کی حالت علاج کے دوران بگڑتی گئی اور انہیں مبینہ طور پر بروقت اور موثر طبی سہولت نہ مل سکی تاہم واقعے کی اصل وجوہات کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
ایگزو نیوز کے مطابق جاں بحق ہونے والی رفعت سلطانہ،نیویارک میں ناساو کاونٹی کے چیف ایگزیکٹو کے مشیر اور نیویارک کے گورنر کے لیے ریپبلکن پارٹی کے امیدوار بروس بلیک مین کے مشیر چودھری محمد اکرم کی سسٹر اِن لا تھیں۔چودھری محمد اکرم نے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی تمام پہلووں سے تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کسی سطح پر طبی غفلت ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔چودھری محمد اکرم کے مطابق جمعہ کی شام رفعت سلطانہ کی طبیعت اچانک خراب ہوئی،جس کے بعد انہیں فوری طور پر گجرات شہر کے ایک نجی ڈاکٹر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ان کے مطابق ڈاکٹر ہسپتال میں مریضہ کے مختلف طبی معائنے اور علاج کا سلسلہ شروع کیا گیا۔لواحقین کا کہنا ہے کہ انجیوگرافی سمیت دیگر طبی مراحل کے دوران رفعت سلطانہ کی طبیعت مزید بگڑ گئی۔ان کے مطابق صورتحال تشویشناک ہونے پر ڈاکٹرز کی جانب سے مریضہ کو لاہور منتقل کرنے کا کہا گیا تاہم ان کی حالت انتہائی نازک ہونے کے باعث انہیں ڈاکٹر ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ،آئی سی یو،میں منتقل کردیا گیا۔لواحقین کے مطابق رفعت سلطانہ آئی سی یو میں زیر علاج رہنے کے دوران جانبر نہ ہوسکیں اور انتقال کرگئیں۔
واقعے کے بعد چودھری محمد اکرم نے ڈاکٹر ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو سے رابطہ کیا اور مریضہ کی موت کے حوالے سے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ان کا کہنا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ سے رابطے کے باوجود انہیں واقعے کے بارے میں ایسا جواب نہیں ملا جس سے ان کے تحفظات دور ہوسکتے۔چودھری محمد اکرم نے بعد ازاں پنجاب کے وزیر صحت خواجہ عمران نذیر سے بھی ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔انہوں نے وزیر صحت سے مطالبہ کیا کہ رفعت سلطانہ کی موت کے معاملے کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ علاج کے دوران تمام طبی اور قانونی تقاضے پورے کیے گئے یا نہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحقیقات میں مریضہ کے ڈاکٹر ہسپتال پہنچنے سے لے کر مختلف طبی مراحل،انجیوگرافی،علاج کے فیصلوں،آئی سی یو منتقلی اور لاہور منتقل کرنے کی تجویز سمیت تمام پہلووں کا جائزہ لیا جائے تاکہ موت کی اصل وجہ سامنے آسکے۔
چودھری محمد اکرم کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات کے نتیجے میں کسی ڈاکٹر،طبی عملے یا ڈاکٹر ہسپتال انتظامیہ کی غفلت،کوتاہی یا پروٹوکول کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔واقعے نے ایک مرتبہ پھر نجی ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج،طبی پروٹوکولز پر عمل درآمد، ہنگامی حالات میں فوری فیصلوں اور طبی نگرانی کے نظام سے متعلق سوالات اٹھا دیے ہیں تاہم رفعت سلطانہ کی موت میں کسی مخصوص ڈاکٹر یا طبی عملے کی غفلت ثابت ہونے کے لیے باقاعدہ طبی اور قانونی تحقیقات ضروری ہیں۔لواحقین نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کو محض رسمی کارروائی تک محدود رکھنے کے بجائے کسی غیر جانب دار طبی ماہرین یا متعلقہ فورم کے ذریعے شفاف انداز میں مکمل کیا جائے تاکہ واقعے کی حقیقت سامنے آسکے،ذمہ داری کا تعین ہو اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کیے جاسکیں۔