اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پارلیمنٹ ہاوس میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا مشترکہ اجلاس ستائیسویں آئینی ترمیم 2025 کے مسودے پر غور کے لیے جاری ہے۔اجلاس کی صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین فاروق ایچ نائیک اور قومی اسمبلی کے چیئرمین چودھری محمود بشیر ورک مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بائیکاٹ کا سلسلہ جاری رہا، جس کے باعث ترمیمی بل کی شق بہ شق تفصیلی بحث متاثر ہوئی۔ گزشتہ روز جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ارکان نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا جبکہ اس دوران پی ٹی آئی،جے یو آئی ف،ایم ڈبلیو ایم اور پی کے میپ کے رہنما اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔اجلاس میں سینیٹر طاہر خلیل سندھو،سینیٹر شہادت اعوان،سینیٹر ہدایت اللہ،سینیٹر ضمیر حسین گھمرو،سائرہ افضل تارڑ،علی حیدر گیلانی،بلال اظہر کیانی،ابرار شاہ اور سید نوید قمر نے شرکت کی،اس کے علاوہ سیکرٹری وزارت قانون و انصاف راجا نعیم اکبر اور دیگر افسران بھی موجود ہیں۔کمیٹی کے ارکان کو ہدایت کی گئی کہ وہ بل کی ہر شق کی آئینی،قانونی اور انتظامی حیثیت کا باریک بینی سے مطالعہ کریں۔اجلاس میں آئینی عدالت کے قیام سے متعلق مشاورت مکمل کرلی گئی جبکہ آرٹیکل 243 اور آرٹیکل 200 پر مزید تبادلہ خیال جاری ہے۔اجلاس کے اختتام پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی آج مجوزہ ڈرافٹ کو حتمی شکل دینے کا امکان رکھتی ہے۔
چیئرمین کمیٹی فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کی آراءکو مدنظر رکھتے ہوئے آج شام تک بل کی حتمی شکل دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ،ایم کیو ایم سمیت دیگر جماعتوں کی تجاویز پر غور کیا جائے گا اور اکثریتی رائے کے مطابق فیصلہ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر مملکت برائے ریلوے و خزانہ بلال اظہر کیانی بھی اجلاس میں موجود ہیں، جنہوں نے بل کی قانونی اور آئینی حیثیت کی وضاحت کی۔اجلاس میں ترمیمی بل کے تحت عدالتی اصلاحات، پارلیمانی اختیارات میں توسیع اور وفاقی و صوبائی تعلقات میں ممکنہ تبدیلیوں پر مشاورت جاری رہی۔یہ اجلاس پاکستان کی قانون سازی کے عمل میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ 27ویں آئینی ترمیم ملک میں عدالتی اور پارلیمانی ڈھانچے میں اہم اصلاحات لانے کا پیش خیمہ ہے،جس کے تحت آئینی عدالت کے قیام اور وفاقی اختیارات کے نئے دائرہ کار کی منظوری متوقع ہے۔