بوسٹن(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکہ کی 19 ریاستوں نے ایچ ون بی ویز پر عائد نئی فیس کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے، بوسٹن کی فیڈرل کورٹ میں دائر کی گئی مشترکہ درخواست میں اٹارنی جنرل کیلیفورنیا نے موقف اختیار کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایچ ون بی ویز پر فیس عائد کرکے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس سال ستمبر میں ایچ ون بی ویز کی فیس بڑھا کر 1 لاکھ ڈالر تک کر دی، جبکہ اس سے قبل یہ فیس 2 ہزار سے 5 ہزار ڈالر تک تھی۔ نئی فیس کے نفاذ سے امریکی کاروباری اداروں، یونیورسٹیوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو شدید مالی دباو کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ایچ ون بی ویز کی فیس میں اضافہ امریکی ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر سیکٹر کے لیے ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے، کیونکہ ان ویز کے تحت لاکھوں غیر ملکی ماہرین امریکہ میں کام کرتے ہیں۔ درخواست گزار ریاستوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام وفاقی اختیارات کی حد سے تجاوز ہے اور اس کے قانونی، معاشی اور انسانی اثرات غیر معقول ہیں۔اس مقدمے سے پہلے ہی یو ایس چیمبر آف کامرس نے بھی اس فیصلے کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کر رکھی ہے، جس سے فیس کے نفاذ پر قانونی پیچیدگیاں بڑھ گئی ہیں۔ فیس کی مخالفت کرنے والی ریاستوں میں نیویارک، واشنگٹن، نیوجرسی، کیلیفورنیا اور دیگر ریاستیں شامل ہیں، جنہوں نے کہا کہ نئی فیس امریکی معیشت اور ٹیکنالوجی سیکٹر کے لیے نقصان دہ ہے۔ماہرین کے مطابق، اگر عدالت ریاستوں کے حق میں فیصلہ دیتی ہے تو ایچ ون بی ویز کے تحت کام کرنے والے لاکھوں افراد کے لیے ویز کی فیس میں کمی اور قانونی تحفظ ممکن ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، اگر عدالت فیس کو برقرار رکھتی ہے تو امریکی کاروباری اداروں کو اضافی اخراجات اور ممکنہ ہنر مند ماہرین کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔یہ قانونی چیلنج امریکی ٹیکنالوجی سیکٹر، کاروباری اداروں اور یونیورسٹیوں کے لیے مستقبل میں ویز کے نظام کی سمت کے حوالے سے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ کی ایچ ون بی ویز فیس بڑھانے کی مخالفت،19 امریکی ریاستوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا
7