کوئٹہ(ایگزو نیوز ڈیسک)بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 19 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز کے 11 جوان وطن کے دفاع میں شہید ہو گئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف کی گئی، جس میں متعدد شدت پسند زخمی بھی ہوئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں قومی شاہراہ این 25 پر جھاو کراس اور کرارو کے درمیان دہشتگردوں کے خلاف آپریشن جاری تھا، جہاں فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ آپریشن کے دوران بڑی تعداد میں دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ علاقے کو کلیئر کرنے کا عمل بھی جاری رہا۔ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور موثر کارروائی اس عزم کا اظہار ہے کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ، اہم شاہراہوں کی سلامتی اور بلوچستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔حالیہ کارروائی سے قبل ضلع زیارت میں بھی دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی آپریشن کیا گیا تھا، جہاں پولیس چوکی پر حملے کے نتیجے میں 9 پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے، جبکہ کلیئرنس آپریشن کے دوران 15 دہشتگرد مارے گئے۔ایس پی زیارت عبدالقدوس کے مطابق شہید ہونے والے اہلکاروں میں دو ایس ایچ اوز بھی شامل تھے۔ پولیس حکام کے مطابق دہشتگردوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رات بھر فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا، جس کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن مکمل کیا گیا۔معاون وزیراعلیٰ بلوچستان شاہد رند نے کہا کہ زیارت میں فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کا آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد عناصر بلوچستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم ریاستی اداروں نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے ان کے عزائم ناکام بنا دیے۔حکام کے مطابق بلوچستان میں امن و امان کے قیام اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ شہدا کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے دہشتگردی کے خلاف قومی عزم کو مزید مضبوط بنانے کا اعادہ کیا گیا ہے۔
امن دشمنوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی،بلوچستان میں 19 دہشتگرد مارے گئے،11 بہادر سپوت وطن پر قربان
11