اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پنجاب میں خطرناک عمارتوں سے شہریوں کے جان و مال کو لاحق خطرات کے پیش نظر سیکرٹری ایمرجنسی اینڈ ریسکیو سروسز کی جانب سے جامع سروے رپورٹ مرتب کر لی گئی ہے۔ سروے رپورٹ کے مطابق پورے صوبے میں 14 عمارتیں انتہائی خطرناک قرار دی گئی ہیں، جن میں لاہور میں 13 اور فیصل آباد میں ایک عمارت شامل ہے، جن کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش کی گئی ہے ۔
ایگزو نیوز کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خطرناک قرار دی گئی عمارتیں رہائشی اور کمرشل دونوں استعمال کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور فوری اقدامات کے بغیر کسی بھی وقت حادثہ پیش آ سکتا ہے۔ بی کیٹیگری میں شامل 63 عمارتوں کی مسلسل نگرانی کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ انہیں مرمت کروانے یا خالی کرانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔سروے رپورٹ میں فائر سیفٹی اور بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی، اور کہا گیا کہ شہری علاقوں میں پرانی اور خستہ حال عمارتیں سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ رپورٹ ضلعی انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں کو ارسال کر دی گئی ہے، اور قانونی کارروائی اور سیلنگ کے امکانات بھی زیر غور ہیں۔مزید برآں، رپورٹ میں خطرناک عمارتوں کے مکینوں کی محفوظ منتقلی کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ ضلعی سطح پر فزیکل انسپکشن مزید تیز کرنے اور پیشگی اقدامات شروع کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ پنجاب میں کراچی جیسے المناک سانحات سے بچا جا سکے۔سیکرٹری ایمرجنسی اینڈ ریسکیو سروسز نے کہا کہ شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے، اور تمام متعلقہ ادارے اس رپورٹ کے عملی اقدامات کو جلد از جلد یقینی بنائیں گے تاکہ کسی بھی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔
پنجاب میں 14 عمارتیں سنگین خطرہ قرار،سروے رپورٹ میں فائر سیفٹی اور بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی،فوری کارروائی کی سفارش
5