لاہور(اسلم مراد ) بنگلہ دیش میں مون سون بارشوں کے باعث سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں جس کے نتیجے میں کاروبار زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا ہے اور معاشی طور پر حکومت کو اربوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق مون سون بارشوں سے بھارت کے سرحدی علاقے اور بنگلہ دیش کا علاقہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ چٹاکانگ سے لیکر ڈھاکہ تک سڑکیں ، کھیت ، کھلیان سرکاری ادارے ، پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں جس سے کاروبار معطل ہوکر رھ گیا ہے۔ بنگلہ دیشی حکومت کچھ علاقوں کو آفت زدہ قرار دینے پر غور کررہی ہے۔
چند دن قبل وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے بھی بنگلہ دیش کو مدد کی پیشکش کی تھی جبکہ پہلے ٹیسٹ میں مین آف دی میچ کھلاڑی نے بھی انعامی رقم بنگلہ دیش کے سیلاب زدگان کے نام کردی تھی۔ بنگلہ دیش میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے چالیس افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ تعداد میں اضافے کا بھی امکان ہے۔